صنعاء،4؍فروری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)یمن کے صوبے تعز میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سرکاری فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں باغی ملیشیاؤں کے 9 ارکان ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ فوجی ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں تعز کے جنوب میں واقع علاقے الصلو میں ہوئیں۔ جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج نے الصیار گاؤں کو واپس لے لیے جب کہ الحود نامی گاؤں میں لڑائی جاری ہے۔ادھر المخا میں سرکاری فوج نے اتحادی طیاروں کی معاونت سے شہر اور اس کے اطراف کے علاقوں کو کلیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس دوران ملیشیاؤں کے باقی ماندہ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل باغی ملیشیاؤں نے الزحیط اور وادی البطاح نامی دو دیہات سے 20 شہریوں کو اغوا کر لیا۔ اس کے علاوہ باغیوں نے طیارہ شکن میزائلوں سے تعز کے مغرب میں واقع ضلع مقبنہ میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔اتحادی طیاروں کی جانب سے المخا شہر میں پمفلٹ گرائے گئے ہیں جن میں شہریوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے واسطے حوثی اور صالح ملیشیاؤں کے مجمع سے دور رہیں۔دوسری جانب البیضاء صوبے میں قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ عوامی مزاحمت کاروں نے باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد القریشیہ ضلع میں السمیط نامی عسکری ٹھکانے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔